بھٹکل 10/اپریل (ایس او نیوز) بھٹکل سمیت پورے ضلع اُترکنڑا کے لئے پھر ایک بار راحت کی خبر یہ ہے کہ دو روز قبل جن مشکوک کورونا مریضوں کے تھوک کے سیمپل جانچ کے لئے روانہ کئے گئے تھے، اُن سبھوں کی رپورٹ نیگیٹیو موصول ہوئی ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بھٹکل کی 26 سالہ جس حاملہ خاتون کی رپورٹ پوزیٹیو آئی تھی، اُس کی جانچ کرنے والی ڈاکٹر سمیت دیگر رابطے میں آنے والوں کے سیمپل بھی جانچ کے لئے روانہ کئے گئے تھے اور راحت کی خبر یہ ہے کہ اُن تمام کی رپورٹ نیگیٹیو آئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر دفتر سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ابتدا سے لے کر آج تک جملہ 140 نمونوں کو جانچ کے لئے روانہ کیا گیا تھا جس میں9 معاملات پوزیٹیو آئے، جبکہ 129 رپورٹ نیگیٹیو آئی ہے، دو رپورٹ موصول ہونی باقی ہے۔
یاد رہے کہ بھٹکل کے جن لوگوں کی رپورٹس پوزیٹیو آئی تھی، اُن میں سے دو لوگ کاروار پتنجلی اسپتال سے علاج کرنے کے بعد صحتیاب ہوکر واپس بھٹکل پہنچ چکے ہیں اور اُنہیں بھٹکل میں کورنٹائن سینٹر میں رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل مینگلور کے وینلاک اسپتال سے ڈسچارج ہونے والا بھٹکل کا ایک نوجوان بھی صحت یاب ہوکراسی سینٹر میں کورنٹائن میں ہے۔اب کاروار پتنجلی اسپتال میں چھ مریض ہیں، جبکہ دو روز قبل جس حاملہ خاتون کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آئی ہے، اُسے اُڈپی شفٹ کیا گیا ہے۔
حاملہ خاتون اُڈپی اسپتال شفٹ: بھٹکل کی پانچ ماہ کی حاملہ خاتون جس کی رپورٹ پوزیٹیو آئی تھی، اُسے علاج کے لئے اُڈپی ٹی ایم اے پائی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں سے خبر ملی ہے کہ مریضہ کے علاج معالجہ پر میڈیکل ٹیمیں پورا زور لگارہی ہیں، خبر ہے کہ اسپتال میں مریضہ کو بہترین سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ ضلع اُترکنڑا سے پڑوسی ضلع یعنی اُڈپی میں مریضہ کو شفٹ کرنے کے لئے ضلعی انتظامیہ کو کافی دقت پیش آئی کیونکہ پورا ملک لاک ڈاون ہونے کی وجہ سے ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں جانے آنے پر پابندی عائد ہے، مگر ضلع کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے اُڈپی کی ضلع کمشنر سے گفتگو اور باہمی تعاون کا یقین دلاتے ہوئے مریضہ کو اُڈپی اسپتال میں منتقل کرایا۔ پتہ چلا ہے کہ اُڈپی اسپتال میں بھٹکل کی مریضہ روبہء صحت ہے۔
انجمن سینٹر سے اکثر لوگ کورنٹائن کے بعد گھر واپس: انجمن کورنٹائن سینٹر میں جن لوگوں کو داخل کیا گیا تھا، اُن میں سے اکثر لوگ کورنٹائن کی مدت مکمل کرکے اپنے اپنے گھروں میں منتقل ہوچکے ہیں جن لوگوں کی رپورٹس نیگیٹو آچکی ہے وہ بھی کورنٹائن سے فارغ ہوکر اپنے اپنے گھروں میں اب لاک ڈاون ہیں۔ البتہ بعض مشکوک لوگوں کی رپورٹس نیگیٹو آنے کے باوجود بھی اُن کی کڑی نگرانی رکھنے کے لئے اُنہیں اسپتال یا کورنٹائن سینٹر میں رکھا گیا ہے۔ الغرض بھٹکل یا اُترکنڑا میں کورونا پر مکمل قابو پانے کے لئے ضلعی انتظامیہ نہایت چوکس ہے اور وائرس کو پھیلنے کا کوئی بھی موقع نہیں دینا چاہتے ہیں۔
کیا محکمہ ہیلتھ مطمئن ہے ؟ : بھٹکل میں کورونا پوزیٹیو کے نو معاملات سامنے آنےاور دو لوگوں کےصحت یاب ہوکر واپس لوٹنے اور دیگر تمام لوگ بھی روبہء صحت ہونے کو لے کر ساحل آن لائن نے جب ایک ہیلتھ آفسر سے سوال کیا کہ کیا آپ کورونا کو لے کر بھٹکل کے حالات سے مطمئن ہیں تو آفسر نے بتایا کہ ہم مطمئن تو نہیں ہیں، مگر کورونا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ہم ایک حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔ کاروار سے بھٹکل کے لئے خصوصی ڈیوٹی پر تعینات اس آفسر نے بتایا کہ ویسے تو ہماری میڈیکل ٹیموں نے بھٹکل کے تقریباً تمام گھروں میں پہنچ کر سروے کیا ہے، مگر سروے رپورٹس سے ہم مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں، کیونکہ ابھی بھی کئی گھرانے ایسے ہیں جن کے تعلق سے ہمیں شک ہے کہ اُن لوگوں نے ہماری میڈیکل ٹیم کو مکمل جانکاری نہیں دی ہے، کئی لوگ ایسے ہیں جن پر ہمیں شک ہے کہ وہ کھل کر ہمیں یہ بتانے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ اُن کے گھر میں کوئی بیرون ملک سے آیا ہے یا نہیں، گھر پر کوئی عمر رسیدہ شخص ہے یا نہیں۔ آفسر کے مطابق اگر لوگ ہمیں مکمل جانکاری نہیں دیں گے تو یہ اُن کے لئے ہی بہتر نہیں ہوگا، کیونکہ اگر کوئی ایک آدمی میں بھی کورونا کی علامت پائی جاتی ہے اور وہ اس کو چھپاتے ہیں اور اپنی جانچ کرانے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں تو پھر وائرس ایک شخص سے دوسرے اور پھر تمام گھروالوں میں پھیل جائے گا ، وہیں سے پاس پڑوس کے لوگ بھی متاثر ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسی ایک بھی شخص میں یہ وائرس زندہ نہ رہیں، مگر اس کے لئے عوام کی طرف سے بھی مکمل تعاون ملنا ضروری ہے۔ آفسر کے مطابق جوان لوگوں کا دفاعی سسٹم مضبوط ہوتا ہے، وہ کورونا سے لڑ سکتے ہیں مگر عمر رسیدہ لوگوں میں یہ وائرس اگر داخل ہوتا ہے تو پھر مشکل کھڑی ہوسکتی ہے۔
بھٹکل لاک ڈاون کے دوران آج بھی جمعہ نہیں پڑھی گئی: کورونا وائرس کو لے کر آج لگاتار تیسرے جمعہ کو بھی مساجد میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی گئی اور مسلمانوں نے اپنے اپنے گھروں میں ہی ظہر کی نماز ادا کی۔ ویسے بھی بھٹکل کے قاضی صاحبان کے اعلان کے بعد مساجد میں پانچ وقتوں کی نماز سمیت جمعہ نماز بھی ادا نہیں کی جارہی ہے مگر اس کے باوجود اکثر جمعہ مساجد کے باہر پولس کا سخت پہرہ نظر آیا۔
پولس کی بائک ریلی: لاک ڈاون کے دوران شہر میں پولس کی سخت نگرانی کو عوام الناس میں ظاہر کرنے اور عوام کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی سخت تاکید کرنے کے مقصد سے آج بھٹکل پولس نے بائک ریلی کا اہتمام کیا۔ پولس کی یہ ریلی شہر کے تقریباً تمام راستوں اورگلیوں سے گذری اور عوام الناس کو پیغام دیا کہ شہر میں پولس کی بھاری فورس موجود ہے لہٰذا عوام گھروں سے باہر نکل کر آوارہ گردی کرنے سے باز آئیں۔